Other languages

Bedwetting in Teenagers and Young Adults

ٹین ایج اور نوجوانی میں بستر گیلا کرنا

PDF   |  انگریزی

Is bed-wetting a problem in young adults?

About two out of every 100 young adults wet the bed at night (also called nocturnal enuresis). It can be a problem for both young men and women, with most young adults who wet the bed having done so since they were a child. While some may have had help as a child, many young people may never have had help with this problem. They may think bed-wetting will get better with time, or that it can’t be helped.

Some young people with night-time wetting may also have day-time bladder problems, such as passing urine more often and more urgently than normal, and urine leaks as they hurry to the toilet (also called overactive bladder).

Bed-wetting can make everyday life more difficult. Young adults may be embarrassed by this problem, and they may fear that people will find out. They can also have the expense and workload of extra washing. It can be tricky to stay away from home overnight or to share a bed or room with someone else. A big worry is what bed-wetting can mean for close personal relationships.

کیا بالغ نوجوانوں میں بستر گیلا ہونا ایک مسئلہ ہے؟

سو میں سے کوئی دو ایسے بالغ نوجوان ہیں جو رات کو بستر گیلا کردیتے ہیں (اسے ناکٹرنل اینوریسس کہتے ہیں)۔ یہ نوجوان مردوں اورعورتوں میں ایک مسئلہ ہو سکتا ہے کیونکہ اکثربالغ نوجوان جو بستر گیلا کرتے ہیں وہ بچپن ہی سے ایسا کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کو بچپن میں مدد ملی ہو لیکن بےشمار نوجوان ایسے ہیں جنہیں اس معاملے میں کبھی کوئی مدد نہیں ملی۔ وہ سوچتے ہونگے کہ بستر بھیگنے کا مسئلہ وقت کے ساتھ بہتر ہو جائیگا یا اس میں مدد مل جائیگی۔

کچھ نوجوان جنہیں رات کو بستر بھیگنے کا مسئلہ ہے انہیں دن کوبھی مثانے کی مشکلات ہیں، جیسے کہ بار بار پیشاب کیلئے جانا اور عجلت میں جانا اور بیت الخلا کی جانب تیزی سے جانے میں کچھ پیشاب نکل جانا (اسے اوور ایکٹیو بلیڈر کہتے ہیں)۔

بستر گیلا ہونے سے روزمرہ کی زندگی زیادہ مشکل ہوجاتی ہے۔ بالغ نوجوان اس مسئلے سے شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور انہیں یہ خدشہ رہتا ہے کہ لوگوں کو پتہ چل جائیگا۔ انہیں زیادہ دھلائی کا کام اور خرچہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ رات کو گھر سے باہر رہنا یا کسی کے ساتھ بستر یا کمرہ بانٹنا بھی ایک مشکل صورت ہے۔ قریبی رشتوں میں بستر گیلا ہوناایک بڑی پریشانی ہوسکتی ہے۔

Is help available for bed-wetting?

The good news is that you CAN get help. With careful review and treatment, bed-wetting can often be cured, even if past treatment did not help.

Even when it can’t be cured, you can reduce symptoms and keep bedding dry.

کیا بستر گیلا ہونے کیلئے کوئی مدد دستیاب ہے؟

اچھی خبر یہ ہے کہ آپکو مدد مل سکتی ہے احتیاطی نظرثانی اوردیکھ بھال سے بستر بھیگنے کا علاج ہو سکتا ہے خواہ پچھلے علاج سے فائدہ نہ بھی ہوا ہو۔

اگراسکا علاج نہ بھی ہو سکے تب بھی آپ اسکی علامتیں کم کرسکتے ہیں اور بستر کو خشک رکھ سکتے ہیں۔

What causes bed-wetting in young adults?

Wetting the bed is caused by a mix of three things:

  • the body making a large amount of urine through the night;
  • a bladder that can only store a small amount of urine at night; and
  • not being able to fully wake up from sleep.

In some young adults there is likely to also be some change in bladder function that stops normal filling and emptying of urine through the day.

Worldwide research means that we now know more about the causes of bed-wetting, such as:

  • bed-wetting can run in some families;
  • some bladders can’t hold very much urine through the day and this can cause problems at night;
  • some bladders do not fully empty on the toilet, which means urine stays in the bladder;
  • some kidneys make larger amounts of urine than normal through the night.

نوجوان بالغوں میں بستر گیلا ہونے کی وجہ کیا ہے؟

بستر تین چیزوں سے گیلا ہوتا ہے:

  • جسم رات میں بڑی مقدار میں پیشاب بناتا ہے؛
  • مثانہ جو رات کےوقت زیادہ پیشاب نہیں رکھ سکتا؛ اور
  • سوتے سے پوری طرح نہ اٹھ پانا۔

کچھ نوجوان بالغوں میں ہوسکتا ہے کہ مثانے کے فعل میں کوئی تبدیلی آئی ہو جس سےدن کے وقت پیشاب کے بھرنے اور خالی ہونے کا عمل رک گیا ہو۔

عالمگیر تحقیق سے پتہ چلا کہ اب ہم بستر بھیگنے کے اسباب زیادہ جانتے ہیں جیسے کہ:

  • بستر بھیگنا کچھ خاندانوں میں چلتا ہو؛
  • کچھ مثانے دن میں بہت زیادہ پیشاب جمع نہیں کر سکتے ہیں اس سے رات کو مسئلہ پیدا ہوتا ہے؛
  • کچھ مثانے بیت الخلا میں پوری طرح خالی نہیں ہوتے جسکا مطلب یہ کہ مثانے میں پیشاب رہ جاتا ہے؛
  • کچھ گردے رات کے وقت معمول سے زیادہ پیشاب تیار کرتے ہیں؛ اور

Can there be other reasons for bed-wetting?

Some other things can make it hard to control bed-wetting, such as:

  • constipation;
  • infection in the kidney or bladder;
  • drinking too many drinks with caffeine and/or alcohol;
  • the use of some medications and illegal drugs; and
  • allergies or enlarged adenoids and tonsils which block the nose or upper airways at night.

بستر گیلا ہونے کے اور بھی اسباب ہو سکتے ہیں؟

کچھ اور چیزیں ہیں جو بستر گیلا ہونے پر قابو پانا مشکل بنا دیتی ہیں، جیسے کہ:

  • قبض؛
  • گردوں یا مثانے میں انفیکشن؛
  • ایسے لاتعداد مشروبات پینا جن میں کیفین یا/ اور الکحل ہو؛
  • کچھ دواؤں اور غیر قانونی منشیات کا استعمال؛ اور
  • الرجی اوربڑھے ہوئےایڈینوائڈس اورٹانسل جس سےرات کو ناک اوربالائی سانس کے راستےبند ہوجاتے ہیں۔

How can bed-wetting be helped?

Research has led to new types of treatment. Since bed-wetting in young adults can be more complex than in children, you must talk to a health professional with special training in bladder problems, such as a doctor, physiotherapist or continence nurse advisor. When you see this health professional, the problem will be reviewed and a physical check and some tests will be done. One test may check your urine flow (by passing urine in private into a toilet). Another test can check if your bladder empties right out. You may also be asked to do a bladder diary at home.

Treatment will depend on what was found in the check, but could be:

  • treatment of constipation and bladder infection;
  • drugs or sprays to boost how much your bladder can hold, or to cut down how much urine is made through the night;
  • training to control how well the bladder stores and empties urine;
  • use of an alarm that goes off when the bed becomes wet. This can be useful for young adults as well as children but may not be the first thing tried;
  • a mix of some of the above treatments; and
  • use of continence products to protect bedding and skin, reduce odour and increase comfort while treatment is underway.

Treatment can take a few months to work. If you only take the drugs or use the alarm now and then, it may not work at all. Some of the things that can increase the chance of becoming dry are:

  • wanting to improve;
  • having your treatment supervised; and
  • putting in a big effort to make changes where you have been asked to.

When bed-wetting does not get better, it isn’t your fault in this case, you should see a specialist doctor who will do a more thorough review.

بستر گیلا ہوتا ہوتوکیا مدد کی جاسکتی ہے؟

تحقیق علاج کےنئے طریقوں تک لے گئی ہے۔ نوجوان بالغوں میں بستر بھیگنا بچوں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے اس لئے آپ صحت کے ان پیشہ وروں سے بات کیجئے جنہیں مٹانے کے مسائل پر خصوصی تربیت دی گئی ہو جیسے ڈاکٹر، فیزیو تھیراپسٹ یا مشیر کانٹی نینس نرس۔ جب آپ صحت کےاس پیشہ ور سے ملینگے تو مسئلے پر نظر ثانی کی جائیگی، جسمانی چیک اپ ہوگا اور کچھ ٹیسٹ کئے جائینگے۔ ایک چیک میں آپکے پیشاب کا بہاؤ دیکھا جائیگا (رازداری سے بیت الخلا میں پیشاب کرنے سے)۔ ایک اور ٹیسٹ میں یہ چیک کیا جائیگا کہ آپکا مثانہ پوری طرح خالی ہوتا ہے یا نہیں۔ اپ سے گھر پرمثانے کے بارے میں ایک ڈائری رکھنے کیلئے بھی کہا جا سکتا ہے۔

علاج کا انحصار اس پر ہوگا کہ چیک میں کیا معلوم ہوا لیکن ہوسکتا ہے:

  • قبض اور مثانے کے انفیکشن کا علاج؛
  • آپکے مثانے میں روکنے کی استطاعت بڑھانے کیلئے ڈرگس اور اسپرے، یا رات کو جتنا پیشاب بنتا ہے اسکو کم کرنے کیلئے؛
  • مثانہ کتنا پیشاب جمع کرتا اور کتنا نکالتا ہے اس پر کنٹرول کی تربیت؛
  • ایسے الارم کا استعمال جو بستر گیلا ہونے پر بج جاتا ہے۔ یہ نوجوان بالغوں اور بچوں کیلئے کارآمد چیز ہے لیکن یہ دیکھ بھال کیلئے پہلی چیز نہیں ہونا چاہئے؛
  • اوپر دئے گئے علاجوں میں سے کچھ کا مرکب؛
  • دیکھ بھال کی مصنوعات استعمال کریں تاکہ بستر اور کھال محفوظ رہیں، بدبو کم ہواور آرام میں اضانہ ہو جبکہ علاج جاری ہے۔

علاج کو اثر دکھانے میں چند ماہ لگ سکتے ہیں۔ اگر آپ صرف دوائیں اورکبھی کبھارالارم استعمال کریں تو یہ کبھی کام نہیں کرینگے۔ بعض چیزیں جو خشک رہنے میں مدد دےسکتی ہیں وہ ہیں:

  • بہتر ہونے کی خواہش؛
  • آپ کے علاج کی نگرانی؛ اور
  • ان تبدیلیوں کو کرنےکیلئے بڑی کوشش کرنا جن کے لئے آپ سے کہا گیا ہے۔

جب بستر بھیگنے میں کوئی بہتری نہیں ہوتی تو یہ ہماری غلطی نہیں ہے، آپ کسی خصوصی ڈاکٹرکو دکھائیں جو زیادہ بہتر نگہداشت کر سکتا ہے۔

Seek help

Qualified nurses are available if you call the National Continence Helpline on 1800 33 00 66* (Monday to Friday, between 8.00am to 8.00pm Australian Eastern Standard Time) for free:

  • Information;
  • Advice; and
  • Leaflets.

If you have difficulty speaking or understanding English you can access the Helpline through the free Telephone Interpreter Service on 13 14 50. The phone will be answered in English, so please name the language you speak and wait on the phone. You will be connected to an interpreter who speaks your language. Tell the interpreter you wish to call the National Continence Helpline on 1800 33 00 66. Wait on the phone to be connected and the interpreter will assist you to speak with a continence nurse advisor. All calls are confidential.

* Calls from mobile telephones are charged at applicable rates.

مدد حاصل کریں

National Continence Helpline پر یعنی 1800 33 00 66* پر پیر سے جمعہ تک صبح 8 بجے سے شام 8 بجے (آسٹریلین ایسٹرن اسٹینڈرڈ ٹائم) کے درمیان فون کریں تو تربیت یافتہ نرسیں بلا معاوضہ مندرجہ ذیل خدمات کیلئے دستیاب ہیں:

  • معلوما؛
  • مشورہ؛ اور
  • کتابچے حاصل کرنے کیلئے۔

اگر آپکو انگریزی زبان بولنے یا سمجھنے میں دشواری ہے تو 13 14 50 پر فون کرکے ٹیلی فون انٹرپریٹر سروس کے ذریعے ہیلپ لائن سے مدد حاصل کریں۔ فون کا جواب انگریزی میں ہوگا اس لئے جو زبان آپ بولتے ہیں اسکا نام لیں اور انتظار کریں۔ آپکو ایسے مترجم سے منسلک کردیا جائیگا جو آپکی زبان بولتا ہے۔ مترجم کو بتا دیں کہ آپ کو National Continence Helpline سے 1800 33 00 66 پر بات کرنا ہے۔ رابطہ ہونے تک فون پر انتظار کریں اور پھر مترجم آپکو کانٹی نینس نرس ایڈوائزرسے بات کرنے میں مدد کریگا۔ تمام کالیں رازداری میں رہتی ہیں۔

* موبائل فون سے کی جانے والی تمام کالوں کی قیمت مروجہ شرح کے مطابق ہو گی۔